Friday, 19 October 2018

بلوچستان:پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کیوں

کوئٹہ ( ناصر شاہوانی سے )پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کیوں  ہیں جب تک افغانستان میں افغانوں کی حقیقی حکومت قائم نہیں ہو جاتی تب تک ممکن نہیں کہ وہاں پر امن آئے۔حقیقی افغان حکومت کا مطلب یہ کہ وہاں پر آبادی کے تناسب کو متاثر کئے بغیر حقیقی آبادی کو اقتدار کی منتقلی ہو ۔ ماضی میں افغانستان میں کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ وہاں پر اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے نظام کو چلایا جائے جس کے اُس وقت کے منفی نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ اب ایک مرتبہ پھر یہ عمل دھرایا جارہا ہے یعنی پاکستان میں چودہ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اور قریب اتنے ہی غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو افغان انتخابات سے دور رکھا جارہاہے۔یعنی ایک مرتبہ پھر ان انتخابات میں پاکستان میں مقیم افغان شہری اپنے ملک میں ہونے والے انتخابات میں رائے دینے سے محروم رہینگے ۔اس سلسلے میں جہاں افغان حکومت نے پاکستان میں رہائش پذیر مہاجرین کے لیے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو پاکستان کی جانب سے بھی کوئی اقدام نہیں ہوا۔ کیونکہ افغانستان کے حالات سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ۔دوسری جانب پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد رواں ماہ کے دوران ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں میں ووٹ ڈالنے کے خواہش مند تو ہے، مگر وہ امن امان کی ابتر صورتحال کی وجہ سے و ہ ووٹ ڈالنے کے لیے افغانستان جانا نہیں چاہتے جس کی بنیادی وجوہات میں افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی ہے جو ان انتخابات سے قبل قندھار سمیت مختلف شہروں میں نظر آئی اس کے علاوہ اور دونوں ممالک کے مابین کشیدہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان واپسی میں ممکنہ مشکل کا خوف شامل ہیں۔اس وقت پاکستان باالخصو ص خیبرپشتونخوا و بلوچستان میں قیام پذیر افغان مہاجرین افغان سیاستدانوں سے ناراض اور مایوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین دیگر ممالک میں آباد ہیں جنہیں بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد حکمران انہیں بھول جاتے ہیں۔دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان میں تیس لاکھ افغان رہائش پذیر ہیں یہ افغان جو زیادہ تر پشتو بولنے والے یہاں اپنی خوشی سے یہاں نہیں آئے، بلکہ بین الاقوامی مفادات کی خاطر انتہائی مجبوری کے عالم میں اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ اگر انہیں افغان پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جاتا تو ہم کم از کم پشتون علاقوں سے ایسے لوگوں کو منتخب کرانے میں اپنا کردار ادا کرتے جو چار دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے اور افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کرتے۔یہی نہیں پشاور اور کوئٹہ میں مقیم افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں ہونے والے انتخابات اور اُمیدواروں سے لاعلم ہے۔ ان مہاجرین کی اکثریت پاکستان ہی میں پیدا ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب تک انہوں نے افغانستان میں کسی کو ووٹ نہیں دیا اور نہ ہی کسی سیاسی رہنما نے کبھی ان سے رابطہ کیا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو افغان الیکشن کمیشن کے مطابق افغانستان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نوے لاکھ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان میں خواتین کی تعداد سوا تین لاکھ کے قریب ہے۔ افغان پارلیمان کی دو سو انچاس نشستوں میں 68 نشستیں خواتین کے لیے مختص ہیں۔ اور جب ان تیس لاکھ کو حق رائے دہی سے محروم رکھا جائیگا تو پھر اس کا واضح مقصد شفاف انتخابات نہیں بلکہ وہاں پر انتخابات کے نام پر اکثریت کو اقلت میں تبدیل کرنا مقصود ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے اس جانب اشراہ کیا تھا کہ افغانستان میں یہ سلسلہ بند ہونا چاہےے ۔مگر اقتدار اور امریکہ کے قریب ہوتے ہوئے بھی وہ نہ کرسکے ۔اس سلسلے میں اگر حکومت پاکستان افغان حکومت کی مدد کرتا تو شاید یہ افغان حق رائے دہی سے محروم نہ رہتے اور افغانستان میں ہونے والے انتخابات میں یہاں موجود ووٹ مثبت نتائج کا سبب بنتے ۔اور انہی کی بدولت افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ اچھے مراسم بنتے مگر موجودہ ہے حکومت اور اس کی ٹیم نے ایسا نہ کرکے اپنے ملک کو نقصان پہنچایا ۔
Previous Post
Next Post

post written by:

0 Comments: